Tags

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تین براعظم میں حکومت تھی اور ان تین براعظموںمیں زکوٰۃ لینے والاکوئی نہیں ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ نے ان سے کہا کہ بچوں کیلئے عید کے کپڑے بنانے ہیں، پیسے دیدیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ان کی اہلیہ نے کہا کہ اگلے ماہ کی آپ ایڈوانس تنخواہ لے لیں۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ خزانچی کے پاس گئے اور اسے کہا کہ ایک ماہ کی تنخواہ ایڈوانس دے دیں۔ خزانچی نے کہا کہ آپ مجھے لکھ کردیں کہ آپ اگلے مہینے تک زندہ رہیں گے میں آپکو تنخواہ دیدوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر آئے اور اپنی بیگم سے کہا کہ فاطمہ ! بچوں سے کہہ دینا کہ میں عید پر انہیں کپڑے نہیں دے سکتا۔
انہوں نے اپنے بچوں سے کہا کہ میں تمہیں پرتعیش زندگی دے سکتا ہوں لیکن میں تمہاری خاطر جہنم کی آگ نہیں خریدسکتا۔ وہ تین براعظموں پر حکومت کرکے یہ کہہ رہے ہیں جبکہ آج کےحکمرانوں کے پاس تو چھوٹا سا اقتدار ہے تو پھر یہ ان سے کیوں نہیں سیکھتے